Newsبچہ پارٹیجواں جہاںصحت و سلامتی

سپارک کا نئی تمباکو مصنوعات کی نگرانی اور ٹیکس میں اضافے کا مطالبہ

پاکستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے فوری اقدامات ضروری

اسلام آباد، رپورٹ عمرانہ کومل

پاکستان کے نوجوانوں میں تمباکو نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان، خاص طور پر ای سگریٹس اور دیگر نئی تمباکو مصنوعات کی مقبولیت، ملک کے مستقبل کے لیے ایک خطرہ بن رہی ہے

۔ ہر سال تمباکو نوشی سے پاکستان میں 1 لاکھ 60 ہزار سے زائد جانیں جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ روزانہ تقریباً 1,200 بچے، جن کی عمریں 6 سے 15 سال کے درمیان ہیں، تمباکو نوشی کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔ اگر ان تمباکو مصنوعات کی فوری نگرانی نہ کی گئی تو یہ نہ صرف صحت کے مسائل پیدا کریں گے بلکہ ان کی وجہ سے ملک کی سماجی اور اقتصادی ترقی پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

سپارک کے پروگرام مینیجر، ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا:

“اگر ہم نے ان تمباکو مصنوعات کے استعمال کی روک تھام کے لئے آج کوئی کوشش نہیں کی تو آنے والی نسلوں کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ہمارے نوجوان ہمارے ملک کا سرمایہ ہیں اور ان کی صحت کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ تمباکو چاہے روایتی شکل میں ہو یا ای سگریٹس جیسے نئے انداز میں، یہ ہماری نوجوان نسل کا مستقبل تاریک کر رہا ہے۔ ہمیں آج فیصلہ لینا ہوگا تاکہ کل کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔”

پاکستان کو تمباکو نوشی کے باعث سالانہ تقریباً615 ارب روپے کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بھاری بوجھ ہے۔ ڈاکٹر خلیل احمد کا کہنا تھا:

“اتنا بڑا معاشی نقصان کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اگر یہی وسائل تعلیم، صحت اور عوامی بہبود پر لگائے جائیں تو ملک میں ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ تمباکو پر ٹیکس کو بڑھانا اور نئی مصنوعات کی سخت نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے۔”

ڈاکٹر خلیل احمد نے مزید کہا کہ تمباکو بنانے والی کمپنیوں کا یہ دعویٰ کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس لگانے سے صارفین سستی اور غیر قانونی مصنوعات کی طرف راغب ہوتے ہیں بلکل بے بنیاد ہے۔ انہوں نے واضح کیا:تمباکو انڈسٹری کا یہ دعوہ بلکل غلط ہے۔ اگر ٹیکس سے منسلک پالیسیاں مضبوط ہوں اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے تو غیر قانونی تجارت جیسے مسائل کو باآسانی قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ عوامی صحت جیسے اہم فیصلوں میں ایسی گمراہ کن باتوں کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔”

پاکستان، عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے فریم ورک کنونشن آن ٹوبیکو کنٹرول (FCTC) کا رکن ہونے کے ناطے، اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا پابند ہے۔ اس حوالے سے ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا:

“پاکستان کو اپنی عالمی ذمہ داریوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔ نئی تمباکو مصنوعات کی نگرانی اور سگریٹ پر زیادہ ٹیکس عائد کرنا صرف قومی ضرورت نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہمارا فرض بھی ہے

۔”ڈاکٹر خلیل احمد نے کہا:

“یہ محض اعداد و شمار کی کہانی نہیں—ی انسانوں کی زندگیوں کا معاملہ ہے۔ نئی تمباکو مصنوعات کی نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مقبولیت ہماری توجہ کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں آج فیصلہ لینا ہوگا کیونکہ آج کئے گئے بہتر فیصلے ہی ہمارے بہتر اور محفوظ کل کی بنیاد رکھیں گے۔”

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button